04-10-2017

پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا کے وکلاء کو کلاشنکوف کے لائسنس جاری کرنے کے لئے دائر رٹ پر حکومتی پالیسی  یکم نومبر کوطلب کر لی جبکہ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ، خیبر پختونخوا بار کونسل کے وائس چیئرمین کو بھی اگلی سماعت پر عدالت طلب کرلیا۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس محمد غضنفر پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر درخواست کی سماعت کی جس میں موقف اپنایا گیا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کے باعث وکلاء غیر محفوظ ہیں اور پشاور ہائی کورٹ نے بارہ فروری دو ہزار پندرہ کو وکلاء کی رٹ پٹیشن منظور کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو وکلاء کو ممنوعہ بور کے لائسنس جاری کرنے کے احکامات جاری کئے تھے لیکن عدالتی احکامات کے باوجود انہیں لائسنس جاری نہیں کئے جار ہے ہیں جو کہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے لہذا متعلقہ حکام کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی عمل میں لائی جائے ۔