22-02-2017

وفاقی شرعی عدالت نے ٹیسٹ ٹیوب بے بی  کی پیدائش سے متعلق ایک مقدمہ کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ صرف حقیقی میاں بیوی کے مادہ تولید  سے پیدا ہونے والے ٹیسٹ ٹیوب بے بی جائز ہے جبکہ غیر میاں بیوی کا ایک دوسرے کے مادہ تولید کے ذریعے یہی عمل خلاف قانون اور قرآن و شریعت کے خلاف اور قابل سزا جرم ہے ۔

وفاقی شرعی عدالت  کے چیف جسٹس ریاض احمد خان کی سربراہی میں جسٹس علامہ ڈاکٹر فدا محمد خان اور جسٹس ظہور احمد  پر مشتمل تین رکنی بنچ نے آئین کے آرٹیکل دو سو تین ڈی  کے تحت، ٹیسٹ ٹیوب بے بی سے متعلق طریقہ کار کا اسلامی احکامات کی روشنی میں مکمل جائزہ لینے کے بعد بیس صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا ۔

عدالت نے اپنے فیصلہ میں  تعزیزات پاکستان میں ٹیسٹ ٹیوب کی تعریف ، اس کے قابل سزا جرم ہونے ، ممنوعہ عمل کو بروئے کار لانے والے مرد ، عورت اور ڈاکٹر  کے لئے سزا مقرر کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں حکومت کو اگست دو ہزار سترہ تک ڈیڈ لائن دیتے ہوئے اس حوالہ سے قانون معاہدہ  اٹھارہ سو بہتتر  کی دفعہ دو  اور تعزیرات پاکستان کی متعلقہ دفعات میں مناسب تبدیلی کے لئے قانون سازی کرنے کا حکم بھی جاری کیا ہے۔