07-02-2017

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے ٹیلی کام سیکٹر میں غیر قانونی ایکسچینجز سے متعلق کیس کی سماعت کی، عدالت نے نیب کو ایک ماہ میں تفتیش مکمل کرنے کا حکم دیا۔سماعت کے دوران ایل ڈی آئی کمپنیوں کے وکیل نے رینٹل پاور کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں عدالت نے شکایت کنندہ کا کردار ادا کیا، اس سے ادارے دباؤ میں آتے ہیں۔ جس پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کو شکایت کنندہ نہیں بننا چاہیے لیکن ہم کرپشن کو برداشت نہیں کرسکتے، ہمیں اداروں سے کرپشن کو ختم کرنا ہے، اس سلسلے میں اختیارات کی کوئی حد نہیں۔ کرپشن کے خاتمے کے لیے عدالتی دائرہ کار کو وسیع بھی کیا جاسکتا ہے۔

عدالت نے  کیس کی مزید سماعت اپریل کے پہلے ہفتے  تک ملتوی کردی۔