27-01-2017

پشاور ہائی کورٹ  نے ٹی ایم اے مردان سے برطرف سولہ بیلداران کی ملازمت پر بحالی کے احکامات جاری کرتے ہوئے ٹی ایم اے مردان کے احکامات کالعدم قرار دے دیئے ہیں جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس روح الآمین خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سولہ درخواست گزاروں کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزاروں کو دو ہزار پندرہ میں وزیر اعلی کے احکامات پر  ٹی ایم اے مردان میں بھرتی کیا گیا کیونکہ وہاں عملہ صفائی کی کمی تھی اور ان کی یہ بھرتی سلیکشن کمیٹی کی باقاعدہ سفارشات کے تحت ہوئی تھی جبکہ آٹھ ماہ کی ڈیوٹی کے بعد ان کی مستقلی کےلئے لیٹر بھی جاری کیا گیا تاہم انہیں اس دورا ن تنخواہ بھی ادا نہیں کی گئی اور تنخواہوں کے بقایاجات کے بجائے انہیں یہ کہہ کر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا کہ ان کے خلاف آڈٹ پیرا آیا ہے جو کہ غیر قانونی اور غیر قانونی اقدام ہے لہذا ان کی برطرفی کے احکامات کالعدم قرار دیئے جائیں اور بقایاجات تنخواہیں بھی ادا کرنے کا حکم دیا جائے ۔عدالت نے رٹ پٹیشن پر دلائل مکمل ہونے پر منظور کر لی اور درخواست گزاروں کوملازمت پر بحال کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ۔