20-06-2017

سپریم کورٹ نے سویلین خفیہ ادارے انٹیلی جنس بیورو کو پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے ارکان کو ڈرانے دھمکانے اور ہراساں کرنے سے روکتے ہوئے قرار دیا ہے کہ  اگر ایسا نہ ہوا تو پھر عدالت ناخوشگوار حکم جاری کرنے پر مجبور ہوگی۔

واضح رہے کہ پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے آئی بی پر ٹیم کے ارکان کو ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا اور اس بارے میں اُنھوں نے سپریم کورٹ میں درخواست بھی دائر کی تھی تاہم آئی بی کے حکام نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

 جسٹس اعجاز افضل خان  کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پاناما لیکس پر عمل درآمد سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔

بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل کو آئی بی کے معاملے پر عدالت کی معاونت کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔عدالت نے ایس ای سی پی کے ریکارڈ میں مبینہ طور پر ٹمپرنگ کا معاملہ ایف آئی اے کو بھجوا دیا ہے۔ عدالت نے ایف آئی اے کے سربراہ کو اس بارے میں رپورٹ جلد پیش کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔