21-04-2017

سپریم کورٹ پاکستان نے پاناما کیس کا  دو کے مقابلے میں تین ججز کا اکثریتی فیصلہ سنا دیا ہے ۔اس کیس کی سماعت کرنے والے بینچ میں شامل دو سینئر ترین ججز جسٹس گلزار اور جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اختلافی نوٹ لکھا اور وزیراعظم کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا کہا۔

پاناما کیس کے 549 صفحات پر مبنی فیصلے میں فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی ضرورت ہے۔فیصلے میں 7روز کے اندر ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں جو کہ 60روز کے اندر اپنی تحقیقات مکمل کرنے کی پابند ہو گی اور ہر دو ہفتے بعد سپریم کورٹ کے بنچ کو اپنی پیش رفت سے آگا ہ کرے گی۔

عدالت نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی میں نیب، وفاقی تحقیقات ادارے (ایف آئی اے)، سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، اسٹیٹ بینک، آئی ایس آئی اور ایم آئی کا ایک ایک نمائندہ شامل ہو گا۔فیصلے میں کہا گیا کہ طلب کرنے پر وزیراعظم اور ان کے بیٹے جسن نواز اور حسین نواز جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں۔جسٹس آصف  کھوسہ نے فیصلہ پڑھتے ہوئے کہا کہ چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) اپنا کام کرنے میں ناکام رہے جس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ یا د رہے کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5رکنی بینچ نے23فروری کو اس کیس پر اپنا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔