February 19, 2020

Khyber Pakhtunkhwa Judicial Academy, Peshawar
BROADCAST TIMING

Morning : 08:00AM to 11:00AM | Evening : 03:00PM to 07:00PM
Call Now: 091-9211654 | Email us: info@radiomeezan.pk

پانچ سے سولہ سال تک بچوں کو مفت تعلیم کی فراہمی سے متعلق وفاق سے جواب طلب

03-05-2018

پشاور ہائی کورٹ نے پانچ سے سولہ سال تک کے بچوں کو مفت تعلیم کی فراہمی سے متعلق وفاق سے جواب طلب کرلیا ہے ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس ایوب خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے درخواست گزار شیرزادہ کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ وہ سیکیورٹی فورسز میں بطور مالی تعینات ہے اور ان کے چار بچے کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے سکول میں زیر تعلیم ہیں تاہم دو ہزار سترہ میں ایک نوٹی فیکیشن کے ذریعے کنٹونمنٹ بورڈ حکام نے سکولوں کی فیسوں میں تین سو گنا اضافہ کیا جس کی وجہ سے ان کے چار بچوں کی فیسیں چھ ہزار روپے تک پہنچ گئی ہیں جو اس کے لئے ناقابل برداشت ہے جبکہ اس حوالے سے پشاور ہائی کورٹ نے بھی ایک فیصلے میں قرار دیا ہے کہ سکول فیسوں میں تین فیصد سے زائد اضافہ نہیں کر سکتے جبکہ اس کے علاوہ آئین کے آرٹیکل دو سو پچیس اے کے تحت یہ سرکار کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو مفت تعلیم کی فراہمی یقینی بنائیں۔ رٹ میں موقف اپنایا گیا کہ کنٹونمنٹ بورڈ کے حکام کا موقف ہے کہ وہ ریاست کی تعریف کے زمرے میں نہیں آتے حالانکہ قانون کے تحت جو ادارہ ٹیکس عائد کرتا ہے وہ بھی ریاست کی تعریف کے زمرے میں آتا ہے۔

دوران سماعت کنٹونمنٹ بورڈ کے وکیل نے موقف اپنایا کہ یہ سرکاری سکول نہیں ہیں اور وہ فیسوں میں اضافہ کرنے کے مجاز ہیں جبکہ کینٹ میں سولہ دیگر فیڈرل گورنمنٹ کے سکول ہیں اور وہ بھی فیسیں وصول کر رہے ہیں جس پر فاضل عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے اس حوالے سے استفسار کیا تو انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس ضمن میں وفاق سے رابطہ کرکے عدالت کو آگاہ کریں گے جس پر عدالت نے وفاق کو باقاعدہ فریق بناتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی ۔

Related posts