30-10-2017

سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں نیب کی پالیسی کسی کو سمجھ ہی نہیں آتی۔عدالت نے مضاربہ اسکینڈل کے مرکزی ملزم مطیع الرحمان کی ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست خارج کردی۔

جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ بنچ نے نیب کی جانب سے دائر ضمانت منسوخی درخواست کی سماعت کی دوران سماعت جسٹس عظمت سعید  نے ریمارکس میں کہا کہ نیب کسی ملزم کے گلے میں ہاتھ ڈال کر گھومتا ہے اور کسی کو گرفتار کر لیتا ہے، نیب کی گرفتاری پالیسی پاکستان میں کسی کو سمجھ نہیں آتی، ایسے کئی ریفرنسز چل رہے ہیں جن میں ملزمان گرفتار نہیں ہوتے۔  دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر نے موقف اپنایا کہ ملزم نے عوام سے 386 ملین کا فراڈ کیا ہے اور اس کیخلاف 36 گواہ بھی بیان ریکارڈ کروا چکے ہیں لہذا اس کے ضمانت منسوخ کئے جائیں۔عدالت نے کہا کہ دو سال سے ملزم گرفتار ہے اور مزید کتنا عرصہ اسے جیل میں رکھنا ہے، کیس میں اتنی تو سزا نہیں ہوتی جتنا عرصہ ملزمان کو جیل میں رکھا جاتا ہے