27-10-2017

پشاور ہائی کورٹ نے پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کے خلاف دائر رٹ پر درخواست گزار سے جواب طلب کر لیا کہ یہ منصوبہ کس قانون کے منافی ہے جبکہ صوبائی حکومت سے بھی اس ضمن میں جواب طلب کرلیا ہے۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ اطلاعات تک رسائی قانون کے تحت اس منصوبے کے معاہدے اور دیگر دستاویزات کےلئے تیس اگست دو ہزار سترہ کو درخواست دے رکھی ہے تاہم تاحال اس درخواست پر کوئی کاروائی نہیں ہوئی اور انہیں ریکارڈ فراہم نہیں کیا جا رہا ہے ۔

عدالت کوبتایا گیا کہ صوبائی حکومت نے پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ کا منصوبہ شروع کیا ہے اور حال ہی میں اس کا افتتاح کیا گیا جبکہ یہ منصوبہ ایشیائی ترقیاتی بنک کے تعاون سے مکمل کیا جا رہا ہے جس کی تکمیل کےلئے صوبائی حکومت نے چھ ماہ کی مدت مقرر کی ہے ۔جبکہ پشاور شہر کے اس بڑے منصوبے کےلئے ادارہ تحفظ ماحولیات سے باقاعدہ طور پر این او سی بھی نہیں لی گئی لہذا یہ منصوبہ آئین و قانون کے منافی ہے لہذا اس منصوبے کوغیر قانونی اور کالعدم قرار دیا جائے ۔