25-10-2017

پشاور ہائی کورٹ نے صوبہ اور بالخصوص پشاور میں پینے کے آلودہ پانی کے خلاف دائر رٹ پر صوبائی حکومت سے جواب طلب کر لیا اور  رٹ پٹیشن سماعت کےلئے جسٹس وقار احمد سیٹھ پر مشتمل دو رکنی بنچ کو منتقل کر دی ہے۔

چیف جسٹس پشاو رہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس اعجاز انور پر مشتمل د ورکنی بنچ نے ایڈوکیٹ خورشید خان کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کی جس میں موقف اپنایا گیا کہ خیبر پختونخوا بالخصوص پشاور میں عوام آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں اور زیر زمین پائپ بوسیدہ اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ مختلف علاقوں سے لئے گئے پانی نمونوں کو بھی پی سی ایس آئی آر لیبارٹری زہریلا قرار دے چکی ہے لہذا حکومت کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے صوبے کے عوام کو پانی کا صاف پانی فراہم کرنے اور بوسیدہ پائپوں کو تبدیل کرنے کے احکامات جاری کئےجائیں ۔