28-04-2017

پشاور ہائی کورٹ نے صوبائی دارلحکومت پشاور میں کروڑوں روپے کی لاگت سے بنائے گئے چار واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ غیر فعال ہونے پر چیف ایگزیکٹو ڈبلیو ایس ایس پی کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کر لیا ہے ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس اکرام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ غیر ملکی ڈونرز کمپنی کی جانب سے کروڑوں روپے کی لاگت سے پشاور میں چار مقامات جن میں رنگ روڑ ، چارسدہ روڑ ، ورسک روڈ اور حیات آباد میں واٹر ٹریمنٹ پلانٹ لگائے گئے تھے اوران کی خریداری اور تنصیب پر لاکھوں روپے خرچ کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود بھی وہ پلانٹ غیر فعال ہیں ۔رٹ میں موقف اپنایا گیا کہ منصوبے کے تحت دریاوں میں پانی پلانٹ کے ذریعے صاف کرکے چھوڑا جانا تھا تاہم پلانٹ غیر فعال ہونے سے گندا پانی دریاوں میں چھوڑا جا رہا ہے جس کی وجہ سے بہت سی بیماریاں جنم لے رہی ہیں اس لئے ان پلانٹس کی غیر فعالیت کا نوٹس لیا جائے اور اسے فعال کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں۔