01-06-2018

پشاورہائی کورٹ کے جسٹس قیصررشید اور جسٹس ناصرمحفوظ پرمشتمل دورکنی بنچ نے پشاورمیں ہندوؤں اورسکھ برادری کے لئے شمشان گھاٹ کے قیام کے لئے ضلعی انتظامیہ اورمحکمہ اوقاف کو ہدایات جاری کی ہیں کہ شمشان گھاٹ کے قیام کے لئے قانونی ضابطے جلدازجلد مکمل کرکے کام شروع کیاجائے۔

فاضل عدالت نے دائر رٹ کی سماعت12ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے ایک ماہ میں جامع رپورٹ  بھی طلب کرلی۔  واضح رہے کہ درخواست گذارگورپال سنگھ کی جانب سے  دائر ر ٹ درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے  پشاورمیں شمشات گھاٹ تعمیر کرنے کے لئے تین کروڑ روپے کا فنڈ مختص کیاتھا جس کا باقاعدہ نوٹی فکیشن بھی جاری ہوچکاہے اوراس فنڈمیں میت کو لے جانے کیلئے خصوصی گاڑی کا فنڈ بھی شامل ہے ۔لیکن تاحال یہ فنڈجاری نہیں ہوسکاہے جبکہ ڈپٹی کمشنرکوفنڈبھی منتقل ہوچکاہے اورگاڑی کی رقم ٹاؤن ون کے ناظم کوادا ہوچکی ہے جبکہ اقلیتیں اٹک کے مقام پرمیتوں کوجلاتے ہیں اوراکثرغربت کی بناء ان کے پاس گاڑی کرایہ پرحاصل کرے کے لئے رقم بھی نہیں ہوتی ۔