28-03-2018

پشاور ہائی کورٹ نے محکمہ انٹی کرپشن کی جانب سے خاتون کو ہراساں کرنے سے روک دیا ہے۔ عدالت عالیہ کے جسٹس روح الامین اور جسٹس سید افسر شاہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے مسماۃ پکھراج کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی تو خاتون کے وکیل امین الرحمان یوسفزئی نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار نے جون 2006ء میں یوسف خان نامی شخص سے حیات آباد میں پلاٹ خریدا تھا، تاہم اس پلاٹ کے سابقہ مالکان نے ایک دوسرے کے خلاف انٹی کرپشن میں پلاٹ کے حوالے سے کیسز فائل کئے تھے، جس کو بنیاد بنا کر محکمہ ہٰذا ان کو ہراساں کر رہا ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ انکی مئوکلہ نے اس پلاٹ کی پوری قیمت دی ہے، اور انہوں نے قانونی اور جائز طریقے سے اس پلاٹ کو خریدا ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ محکمہ انٹی کرپشن کو ان کی مئوکلہ کو ہراساں کرنے سے روک دیا جائے