13-04-2017

پشاور ہائی کورٹ نے ڈپٹی کمشنر پشاور کو صوبائی حکومت کی جانب سے پولٹری کے ریٹ مقرر کرنے کےلئے باقاعدہ کمیٹی کے بنانے تک پولٹری ریٹ مقرر کرنے سے روکتے ہوئے رٹ درخواست نمٹا دی ہے ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس سید افسر شاہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے پولٹری ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اور محکمہ لائیو سٹاک مل کر پولٹری ریٹ مقرر کرتے ہیں حالانکہ پولٹری ریٹ پشاور میں مقرر نہیں کیے جا سکتے کیونکہ پولٹری تلہ گنگ پنجاب سے آئی ہے اور یہاں تک پہنچنے میں ٹرانسپورٹیشن سمیت دیگر اخراجات بھی آتے ہیں ۔ اسی طرح خیبر پختونخوا کنزیومر ایکٹ کے سیکشن آٹھ کے تحت ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اور محکمہ لائیو سٹال اس وقت تک پولٹری ریٹ مقرر نہیں کر سکتے جب تک صوبائی حکومت پولٹری ریٹ مقرر کرنے کےلئے باقاعدہ کمیٹی کے بنانے کا نوٹی فیکیشن جاری نہیں کرتی ۔فاضل عدالت نے دلائل کے بعد ڈی سی پشاور کو صوبائی حکومت کی جانب سے پولٹری کے ریٹ مقرر کرنے کےلئے باقاعدہ کمیٹی بنانے تک پولٹری ریٹ مقرر کرنے سے روک دیا اور رٹ نمٹا دی۔