30-03-2017

پشاور ہائی کورٹ نے اشاعتی ادارے کو غلطیوں سے پاک قرآن مجید کے نسخوں کی اشاعت کو یقینی بنانے اور غلطیوں والے کلام پاک کے نسخے عوام سے واپس لینے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں ۔ عدالت نے اس مقصد کےلئے اخبارات میں باقاعدہ اشتہارات شائع کرانے کی ہدایات بھی جاری کئے۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سینئر قانون دان عیسی خان ایڈوکیٹ کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ پشاور ہائی کورٹ نے غلطیوں والے کلام پاک کی اشاعت پر اشاعتی کمپنی کو اس حوالے سے اخبارات میں اشتہارات شائع کرنے اور غلطیوں والے نسخے واپس اکٹھے کرنے کے احکامات جاری کئے تھے لیکن عدالت کے واضح احکامات کے باوجود مارکیٹ میں اب بھی غلطیوں والے کلام پاک کے نسخوں کی فروخت جاری ہے جس کی تمام تر ذمہ داری اشاعتی ادارے پر عائد ہوتی ہے ۔

عدالت نے غلطیوں والے قرآن پاک کی اشاعت کرنے والی کمپنی کو آخری وارننگ دیتے ہوئے حکم دیا کہ فی الفور اس حوالے سے اخبارات میں اشتہارات شائع کئے جائیں بصورت دیگرکمپنی کی انتظامیہ عدالت میں پیش ہو کر وضاحت پیش کرے ۔