30-03-2017

پشاور ہائی کورٹ نے گورنر خیبر پختونخوا کے دو ہزار چودہ کے احکامات کے تحت فاٹا کے فنڈز کا باقاعدہ طور پر ریکارڈ رکھنے اور ان کا آڈٹ کرنے کےلئے دائر رٹ منظور کر لی اور فاٹا سیکرٹریٹ کو ان احکامات پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔

جسٹس قیصر رشید اور جسٹس سید عتیق شاہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ درخواست کی سماعت  کی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ چودہ اپریل دو ہزار چودہ کو گورنر خیبر پختونخوا نے جو سٹینڈنگ آرڈرز جاری کئے تھے اس کے مطابق فاٹا میں ایجنسی پولیٹکل ویلفیئر فنڈ سمیت دیگر فنڈز کے اخراجات کا ریکارڈ مرتب کرنے کا کہا گیا اور ان احکامات کی روشنی میں فاٹا سیکرٹریٹ نے پولیٹکل ایجنٹس کو اس پر عمل درآمد کے احکامات دیئے اور ان احکامات کا مقصد فاٹا کے لئے مختص فنڈز کا ریکارڈ رکھنا تھا تاکہ اس حوالے سے سالانہ آڈٹ رپورٹ تیار کی جائے اور مالی اخراجات میں شفافیت لائی جا سکے لیکن ان احکامات پر تاحال عمل درآمد نہیں کیا گیا اور اب تک فنڈز کا کوئی ریکارڈ مرتب نہیں کیا گیا ہے ۔

عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر رٹ پٹیشن نمٹاتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری فاٹا اور پولیٹکل ایجنٹس کو سٹینڈنگ آرڈر پر سختی سے عمل درآمدکو یقینی بنانے کا حکم دیا ۔