21-02-2017

پشاور ہائی کورٹ نے نیب خیبر پختونخوا کو  پشاور ہاوسنگ اتھارٹی کے سابق کلکٹر  نوید قادر کو دوبارہ کرفتار کرنے سے روکتے ہوئے چیئرمین اور ڈائریکٹر جنرل نیب خیبر پختونخوا  کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کر لیا۔

جسٹس اکرام اللہ خان اور جسٹس محمد غضنفر خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ درخواست گزار نیب کی جانب سے  رسالپور پراپرٹی ، جلوزئی پراپرٹی اور گلیات  ڈویلپمنٹ اتھارٹی پراپرٹی کے چار الگ الگ ریفرنس میں  اگست دو ہزار چودہ سے نیب کی حراست میں ہیں تاہم اب نیب نے اس کے خلاف پانچواں ریفرنس دائر کیا جس میں جناح پارک کے قریب حکومت کی پراپرٹی کا ذکر کیا گیا ہے ۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں موقف اپنایا کیا کہ نیب آرڈیننس  کے سیشن سترہ ڈی کے تحت کسی ملزم کو حراست میں لیا جاتا ہے تو اس کے خلاف تمام انکوائریاں کرکے ایک ہی ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کیا جاتا ہے لیکن نیب نے درخواست گزار کے خلاف پانچ الگ الگ ریفرنس  دائر کئے ہیں جو کہ غیر قانونی اقدام ہے لہذا نیب کو ملزم کے خلاف مزید کسی کاروائی سے روکنے کا حکم دیا جائے ۔