24-08-2017

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ پولیس کا کام صرف پرچہ کاٹنا نہیں بلکہ جامع اور مکمل تفتیش ہے تاہم خیبر پختونخوا پولیس نے پرچہ تو کاٹ لیا جبکہ تفتیش بالکل زیرو ہے ۔

یہ ریمارکس سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی نے مبینہ اغواء کار کی جانب سے دائر ضمانت درخواست کی سماعت کے دوران دیئے ۔ جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے جب سماعت شروع کی تو عدالت کوبتایا گیا کہ ملزم پر پشاور کے رہائشی نوجوان باسط کے اغواء کا الزام ہے ۔ دوران سماعت مغوی کے والد نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے ملزم کو معاف کر دیا ہے اور جرگے نے انہیں ضمانت دی ہے ۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیئے کہ دیکھ رہے ہیں کہ آج کل جرگوں میں کیا معاملات ہوتے ہیں ہم جرگہ کو نہیں مانتے عدالت کوبتایا جائے کہ پراسیکویشن اپنا کام کیوں نہیں کرتی ؟ جھوٹا کیس کرنے پر بھی سزا ہو سکتی ہے جبکہ اللہ تعالی ہمیں سچ بولنے کا حکم دیتا ہے ۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزم کی ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی ۔