15-09-2017

پشاور ہائی کور ٹ نے پیسکو کو محکمہ رائٹ ٹو انفارمیشن کو ریکارڈ کی فراہمی سے روکتے ہوئے حکم امتناعی میں توسیع کردی ہے۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس محمد ایوب پر مشتمل دو رکنی بنچ نے چیف ایگزیکٹو پیسکو کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کی جس میں موقف اپنایا گیا کہ پیسکو ڈسٹری بیوشن کمپنی ہے جو وزارت پانی و بجلی کے تحت آئی ہے جو ایک وفاقی ادارہ ہے جبکہ رائٹ ٹو انفارمیشن کمیشن نے درخواست گزار کو نوٹس جاری کرکے بعض کنفیڈنشل دستاویزات طلب کئے ہیں جس کا انہیں کوئی حق نہیں ہے کیونکہ رائٹ ٹو انفارمیشن صوبائی ادارہ ہے جو مرکزی ادارے سے کوئی دستاویز طلب نہیں کر سکتا لہذا فاضل عدالت سے استدعا ہے کہ راِئٹ ٹو انفارمیشن کے نوٹس کو کالعدم قرار دیا جائے ۔

عدالت نے صوبائی حکومت طلب کرتے ہوئے جاری حکم امتناعی میں توسیع کرکے سماعت اگلی پیشی تک ملتوی کردی ۔