10-03-2017

پشاورہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے پی ٹی سی ایل سے انٹرنیٹ پر انیس اعشاریہ پانچ فیصد ٹیکس وصولی کے اقدام کو درست قرار دیتے ہوئے پی ٹی سی ایل کی جانب سے دائر رٹ درخواست خارج کر دی ہے ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس اکرام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن لیمٹیڈ کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے پی ٹی سی ایل کی انٹرنیٹ پر انیس اعشاریہ پانچ فیصد ٹیکس عائد کیا ہے جو کہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے لہذا اس ٹیکس کو کالعدم قرار دیا جائے

فاضل عدالت نے صوبائی حکومت اور پی ٹی سی ایل کے وکلاء کی جانب سے دلائل مکمل ہونے پر خیبر پختونخوا فنانس ایکٹ دو ہزار تیرہ کے تحت پی ٹی سی ایل پر انیس اعشاریہ پانچ فیصد انٹرنیٹ ٹیکس کی وصولی درست قرار دیتے ہوئے رجسٹرار پشاور ہائی کورٹ کو احکامات جاری کئے کہ جمع شدہ رقم کو ڈی جی خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی کے اکاونٹ میں ٹرانسفر کیا جائے ۔ ان احکامات کے ساتھ ہی فاضل عدالت نے پی ٹی سی ایل کی جانب سے دائر رٹ درخواست خارج کر دی ۔

واضح رہے کہ پچیس نومبر دو ہزار چودہ کو صوبائی حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ ٹیکس کے نفاذ کےلئے عائد کردہ اعلامیہ فاضل عدالت نے معطل کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو ٹیکس کی وصولی تک تاحکم ثانی روک دیا تھا جبکہ پی ٹی سی ایل کو ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ رٹ پٹیشن کی حتمی سماعت تک یہ ٹیکس ہائی کورٹ میں جمع کرے جس کے تحت ایک ارب اسی کروڑ روپے جمع ہو چکے ہیں جنہیں عدالتی احکامات پر متعلقہ سرکاری اکاونٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا گیا ۔