11-10-2017

پشاور ہائی کورٹ نے نیب خیبر پختونخوا کو پی ڈی اے کے مقدمات کی پیروی کرنے والے سٹینڈنگ کونسلز کی بھرتی کی پاداش میں ڈی جی پی ڈی اے کے خلاف انکوائری سے روکتے ہوئے چیئرمین نیب  اور ڈی جی نیب خیبر پختونخوا سے جواب  طلب کرلیا ہے ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بنچ نے پی دی اے کی سٹنڈنگ کونسلز کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کی جس میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار سنیئروکلاء ہیں جن کی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے پی ڈی اے نے اپنے مقدمات کی پیروی کےلئے انہیں مقرر کیا تھا کیونکہ پی ڈی اے کو اس وقت مختلف عدالتوں میں آٹھ سو مقدمات کا سامنا ہے ۔ نیب ریجنل بورڈ میٹنگ میں چار اکتوبر کو ڈی جی پی ڈی اے کے خلاف مختلف انکوائریاں شروع کرنے کی منظوری دی گئی جس میں ایک انکوائری پی ڈی اے کے سٹینڈنگ کونسلز کو ذاتی حیثیت سے استعمال کرنے کے متعلق تھی ہے جو کہ غیر قانونی ہے کیونکہ پی ڈی اے ایک خودمختار ادارہ ہے اور وہ تمام فنڈز اپنے ذرائع سے پورے کرتا ہے اور نیب نے اپنی انکوائری میں جن قوانین کا حوالہ دیا ہے وہ پی ڈی اے پر لاگو نہیں ہوتے لہذا ڈی جی پی ڈی اے کے خلاف یہ انکوائری غیر قانونی ہے اور اس کا مقصد وکلاء کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے لہذا اسے کالعدم قرار دیا جائے ۔