06-10-2017

پشاور ہائی کورٹ نے چرچ کی اراضی فروخت کرنے کےلئے ایکٹ میں کمیشن کی این او سی  کی شرط سے متعلق شق کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں چرچ کی اراضی پر دکانیں تعمیر کرنے والوے حکام پر توہین عدالت سے متعلق فرد جرم عائد کرنے کےلئے انہیں طلب کر لیا ہے۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ اورجسٹس یونس تہیم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے خیبر پختونخوا چرچ پراپرٹی بچاو تحریک کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ دو ہزار چودہ میں صوبائی حکومت نے کمیونل پراپرٹی اینڈ مینارٹی ایکٹ دو ہزار چودہ کی منظوری دی جس کی شق چار میں چرچ کی اراضی فروخت کے لئے کمیشن سے این او سی لازم قرار دی گئی ہے اور کمیشن کا سربراہ صوبائی مذہبی امور ہوں گے ۔ اس طرح ہر شہری یہ این او سی حاصل کر سکتا ہے جس سے اقلیتوں کی اراضی قبضہ مافیا کے قبضے میں چلی جائے گی لہذا  ایکٹ کی شق چار کو کالعدم قرار دیا جائے ۔