16-02-2017

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ہمیں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ ہر صورت میں جیتنا ہوگی ، یہ ہماری آئندہ نسلوں کے مستقبل کا سوال ہے ۔ انہوں نے کہا کہ  ججوں کو خلاف قانون فیصلے کرنے کا اختیار نہیں بلکہ قانو ن کے مطابق فیصلے کرنا ان کی آئینی ذمہ داری ہے اس لئے وکلاء کو ریلیف نہ ملنے پر ججز سے توہین آمیز رویہ اختیار کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔

پی بی سی کی تقریب سے اپنے خطاب میں چیف جسٹس پاکستان نے پشاور اور لاہور میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان واقعات سے ہمارے دل بوجھل ہیں لیکن ہم اس ناسور کے آگے نہیں جھکیں گے ، دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کےلئے ہر شخص اپنا حصہ ڈالے ۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آنے والے وقت میں عدلیہ ملکی اداروں کی اصلاح میں اہم کردار ادا کرے گی ، ججوں کی عزت آزاد عدلیہ کے ساتھ ہے ۔ جب  ججز کی تقرری میرٹ پر ہوگی تو انصاف قانون کے مطابق ہوگا اور ہوتا ہوا نظر بھی آئے گا ۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کے لئے آزاد عدلیہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ، آئین و قانون کی حکمرانی ملکی ترقی کےلئے ناگزیر ہے ، سپریم کورٹ کا ہر جج ایک قلعہ کی مانند ہے جسے کسی صورت تسخیر نہیں کیا جا سکتا ۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہمیں اپنے ملک کو اپنے کردار اور کاوشوں سے بہترین بنانا ہے ، ملک کی خدمت کےلئے ہمارے جذبے کو کوئی متزلزل نہیں کر سکتا۔