10-02-2017

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے مردان پولیس  کی جانب سے خواجہ سراوں کو غیر قانونی طورپر ضلع مردان چھوڑ دینے پر مجبور کرنے سے متعلق ایک درخواست پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مردان کی رپورٹ پر از خود نوٹس نمٹا دیا ہے اور قرار دیا ہے کہ اگر آئندہ پولیس  کی جانب سے ایسا کوئی ناپسندیدہ اقدام کیا گیا تو اس مقدمہ کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔

ترجمان سپریم کورٹ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ایک سماجی تنظیم کی جانب سے چیف جسٹس پاکستان کے نام پر درخواست میں کہا گیا تھا کہ مردان پولیس خواجہ سراوں کے گھروں پر چھاپے ماکر انہیں ضلع مردان چھوڑنے پر مجبور کر رہی ہے جبکہ ان کے مکانات کے مالکان کو بھی خواجہ سراوں کو مکانات کرایہ پر نہ دینے کےلئے انہیں مجبور کر رہی ہے ۔ جس پر چیف جسٹس پاکستان نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مردان کو  معاملہ کی انکوائری کا حکم دیتے ہوئے فوری طور پر جواب طلب کیا تھا جنہوں نے ایس پی آپریشن مردان اور درخواست گزاروں کو طلب کیا اور ایس پی آپریشن مردان نے تحریری یقین دہانی کروائی کہ پولیس کی جانب سے آئندہ کسی خواجہ سراء کو تنگ نہیں کیا جائے گا اور انہیں مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گااسی طرح اگر پولیس نے اس حوالہ سے کسی مالک مکان کو کوئی نوٹس جاری کیا ہے تو وہ بھی فوری طور پر واپس لے لیا جائے گا۔ ترجمان سپریم کورٹ کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس  میاں ثاقب نثار نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مردان کی رپورٹ پر معاملہ نمٹاتے ہوئے قرار دیا کہ اگر آئندہ ایسا کوئی واقعہ آیا تو اس مقدمہ کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔