15-03-2017

پشاور ہائی کورٹ نے ڈائریکٹر جنرل پراسیکیوشن کی غیر قانونی تقرری کے خلاف دائر رٹ درخواست پر صوبائی حکومت اور سیکرٹری ہوم خیبر پختونخوا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انتیس مارچ تک جواب طلب کر لیا ہے ۔

جسٹس روح الاآمین خان اور جسٹس سید افسر شاہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ ڈی جی پراسیکیوشن نہ تو وکیل ہے اور نہ ہی پراسیکیوٹر کے فرائض سرانجام دے چکا ہے جبکہ ان کے پاس وہ تجربہ بھی نہیں جو کہ ڈی جی پراسیکیوشن کے عہدے کےلئے درکار ہے لہذا اس بناء پر ڈی جی پراسیکیوشن کی تقرری غیر قانونی اور اور غیر آئینی ہے لہذا ڈی جی پراسیکیوشن کی تقرری کالعدم قرار دی جائے ۔