22-03-2017

پشاور ہائی کورٹ نے ڈاکٹروں کی خدمات پر عائد سیلز ٹیکس کی وصولی معطل کرتے ہوئے صوبائی حکوتم سے اس ضمن میں جواب طلب کر لیا جبکہ ڈاکٹروں کی رٹ درخواست وکلاء کی جانب سے دائر رٹ کے ساتھ یکجا کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس اکرام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن نے ڈاکٹروں کی خدمات پر سیلز ٹیکس عائد کر رکھا ہے اور اسی نوعیت کا ٹیکس وکلاء پر بھی عائد کر رکھا ہے تاہم اس ٹیکس کی وصولی خیبر پختونخوا فنانس ایکٹ میں شامل نہیں ہے اس طرح سیکرٹری ایکسائز نے ایک نوٹی فیکیشن کیا ہے جس کے تحت یہ سیلز ٹیکس عائد کیا گیا جو کہ غیر قانونی ہے لہذا اسے کالعدم قرار دیا جائے کیونکہ ڈاکٹر پہلے ہی پروفیشنل ٹیکس باقاعدگی سے ادا کر  رہے ہیں ۔

عدالت نے ابتدائی دلائل کے بعد صوبائی حکومت کو تاحکم ثانی ڈاکٹروں سے سیلز ٹیکس کی وصولی روک کر جواب طلب کر لیا اور ڈاکٹروں کی رٹ کو وکلاء کی اسی نوعیت کی رٹ درخواست کے ساتھ یکجا کرنے کا حکم دیا ۔