06-10-2017

پشاور ہائی کورٹ نے ڈبل شاہ کے بے نامی داروں کی فیکٹری منجمد کرنے کے احتساب عدالت کے احکامات کالعدم قرار دیتے ہوئے رٹ پٹیشن منظور کر لی ۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ اورجسٹس یونس تہیم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے درخواست گزارہ نگہت خالد اور محمد رشید کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ درخواست گزار ملتان میں کھانے کے تیل کی ملز کے مالک ہیں اور احتساب عدالت نے چوبیس نومبر دو ہزار سولہ کو درخواست گزاروں کی فیکٹری منجمد کی تھی کہ یہ نے نامی دار ہیں اور یہ فیکٹریاں ڈبل شاہ کی ملکیت ہیں ۔ دائر رٹ میں موقف اپنایا گیا کہ نیب قوانین کے مطابق درخواست گزاروں کو پہلے نوٹس جاری کرنا چاہیے تھا جبکہ نیب نے جس روز عدالت میں درخواست دائر کی اسی روز درخواست گزاروں کی فیکٹری سیل کر دی گئی اور قانونی ضابطے پورے نہیں کئے گئے لہذا احتساب عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے ۔