October 19, 2018

Khyber Pakhtunkhwa Judicial Academy, Peshawar
BROADCAST TIMING

Morning : 08:00AM to 11:00AM | Evening : 03:00PM to 07:00PM
Call Now: 091-9211654 | Email us: info@radiomeezan.pk

ڈسٹرکٹ جوڈیشری سیکرٹریٹ پشاور ہائی کورٹ کے سٹاف کےلئے دو ہفتوں پر محیط انڈکشن ٹریننگ پروگرام کا آغاز

11-12-2017

خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی پشاور میں ڈسٹرکٹ جوڈیشری سیکرٹریٹ پشاور ہائی کورٹ کے سٹاف کے لئے دو ہفتوں پر محیط انڈکشن ٹریننگ پروگرام کا آغاز ہو گیا ہے ۔جس میں ڈسٹرکٹ جوڈیشری سیکرٹریٹ کے مختلف سیکشن کے ستائیس سٹاف شریک ہیں۔

دو ہفتوں پر محیط  تربیتی پروگرام کی افتتاحی تقریب جوڈیشل اکیڈمی کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوا جس کے مہمان خصوصی پشاور ہائی کور ٹ کے رجسٹرار محمد سلیم خان تھے جبکہ تقریب میں ڈائریکٹر جنرل جوڈیشل اکیڈمی خواجہ وجہہ الدین ،  سینئر ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ پبلی کیشن جوڈیشل اکیڈمی سہیل شیراز نور ثانی ، ڈائریکٹر انسٹرکشنز جوڈیشل اکیڈمی ہاجرہ رحمان ، ضیاء الرحمان ،ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ پبلی کیشن عائشہ رسول اور ریسرچ آفیسر  سول جج کم جوڈیشل مجسٹریٹ ضیاء الحسن اور دیگر نے شرکت کی۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل جوڈیشل اکیڈمی خواجہ وجہہ الدین نے شرکاء کو جوڈیشل اکیڈمی آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے تربیتی کورس کے اغراض و مقاصد بیان کیں ۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں ڈسٹرکٹ جوڈیشری سیکرٹریٹ کی سٹاف کےلئے دو ہفتوں پر محیط انڈکشن ٹریننگ پروگرام کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں نہ صرف شرکاء کو پاکستان کی عدالتی نظام سے متعلق آگاہ کیا جائے گا بلکہ پیشہ وارانہ زندگی کے مختلف پہلووں پر سیر حاصل تربیت دی جائے گی تاکہ شرکاء کو پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں درپیش مسائل کا ادراک کیا جائے سکے ۔

اس موقع پر رجسٹرار پشاور ہائی کور ٹ محمد سلیم خان نے ” ہائی کور ٹ کے افغال یا کارگزاری کا عمومی جائزہ ” کے موضوع پر پریزینٹکشن دیتے ہوئے  ڈسٹرکٹ جوڈیشری سیکرٹریٹ پشاور ہائی کورٹ  کے قیام کے مقاصد ، توقعات اور درپیش چیلنجز  پر روشنی ڈالی ۔ رجسٹرار پشاور ہائی کورٹ نے بتایا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں موجودہ وقت میں پچاسی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، ایک سو دس ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، تینتیس سینئر سول ججز جبکہ تین سو سے زائد سول ججزکم جوڈیشل مجسٹریٹس کام کررہے ہیں جبکہ عمومی عدالتوں کے علاوہ مختلف خصوصی عدالتیں بھی کام کررہی ہیں ۔ اسی طرح جب ضلعی عدالتیں اور ججز کی تعداد بڑھتی ہے تو اس کے ساتھ سپورٹنگ سٹاف کی بھی ضرورت ہوتی ہے اس طرح ہر ضلع  میں ایک سو پچاس کے تناسب سے کورٹ سٹاف اپنی ذمہ داریاں ادا کررہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ضلعی عدلیہ کی فنانشل  منجمنٹ کی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے اور ضلعی عدلیہ کے کام کو جدید دور کے تقاضوں کے عین مطابق بنانے کےلئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی طرف لانا بھی مقصود ہے جبکہ ضلعی عدلیہ کے ایچ آر  ایڈمنسٹریشن بھی وقت کا تقاضا ہے لہذا ان تمام مقاصد اور ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ نے ڈسٹرکٹ جوڈیشری کےلئے ایک خصوصی ادارے کے قیام کا فیصلہ کیا گیا اور اس کے لئے میرٹ  پر سٹاف کا چناو کیا گیا ہے جن کےلئے آج سے خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی پشاور میں دو ہفتوں پر محیط انڈکشن ٹریننگ پروگرام کا آغاز ہو ا ہے۔ رجسٹرار پشاور ہائی کورٹ نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ جوڈیشری سیکرٹریٹ پشاور ہائی کورٹ کے چار بڑے وینگز بنائے گئے ہیں جن میں ریگولیشن وینگ ، آپریشن منجمنٹ وینگ ، انسپکشن وینگ اور ہیومن ریسورس اینڈ  ویلفیئر وینگ شامل ہے جبکہ ان وینگز  کے اندر مختلف یونٹس بنائے گئے ہیں اور ان سیکشن یا وینگز پر قابل اور ممتاز  جوڈیشل آفیسر کو انچارج مقرر کیا گیاہے ۔

بعد میں ریسورس پرسن ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج  ڈاکٹر خورشید اقبال نے “ہائی کورٹ کی انتظامی  امور”  اور  “ہائی کورٹ کی عدالتی امور ” کے موضوعات پر الگ الگ لیکچرز دیئے ۔

Related posts