21-11-2017

پشاور ہائی کورٹ نے ڈیرہ اسماعیل خان میں بااثر ملزموں کے ظلم کی شکار سولہ سالہ لڑکی اور اس کے خاندان کو تحفظ کی فراہمی اور واقعہ کی ویڈیو بنانے والے کو ملزم نامزد کرنے کےلئے دائر درخواست پر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیاہے۔

دائر ر پٹیشن میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وقوعہ کی ایف آئی آر میں واقعہ کی ویڈیو بنانے کے حوالے سے دفعات شامل کی جائیں اور ویڈیو بنانے والے حیات اللہ کو بھی ملزم نامزد کیا جائے جبکہ خیبر پختونخوا حکومت اور آئی جی پی کو احکامات جاری کئے جائیں کہ متاثرہ لڑکی شریفاں بی بی اور اس کے خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے کیونکہ ملزموں کی جانب سے ان کو دھمکیاں مل رہی ہیں اور ان کی جان کو خطرہ ہے ۔رٹ میں بتایا گیا کہ متاثرہ لڑکی ستائیس اکتوبر دو ہزار سترہ کو بمعہ پڑوس کی دیگر خواتین کے ہمراہ پانی لینے کےلئے تالاب گئی اور دوپہر دو بجے جب وہ واپس آرہی تھیں تو راسے میں ملزمان سجاول ، شاہجہان ،ناصر ، اسلم، ثناء اللہ اور دیگر نے اس کو زبردستی پکڑ کر سیدو نامی شخص کے گھر لے گئے جہاں پر قینچی سے اس کے زیب تن کپڑے پھاڑے گئے اور اس کو بعد میں گلیوں میں برہنہ حالت میں گھمایا گیا جبکہ اس سارے واقعہ کی ویڈیو رحمت اللہ نے بنائی ۔ رٹ میں یہ بھی عدالت کو بتایا گیا کہ مفرور ملزم سجاول جو کہ پٹواری ہے اس کے خلاف ایس ایم بی آر بھی تاحال کوئی کاروائی نہیں کر رہا ہے ۔