25-05-2017

پشاور ہائی کورٹ نے خیبر میڈیکل کالج کے ڈین ڈاکٹر نو رالایمان کی تقرری کے خلاف دائر رٹ پر خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے بورڈ آف گورنرز، چیف سیکرٹری ، سیکرٹری صحت ، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اور ڈاکٹر نور الاایمان سے سات روز میں جواب طلب کر لیا ہے ۔جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس یونس تہیم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے درخواست گزار پروفیسر ڈاکٹر اعجاز حسین کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار خیبر میڈیکل کالج میں سینئر ترین پروفیسر ہیں اور وہ اس سے قبل ڈین بھی رہ چکا ہے جبکہ ایم ٹی آئی ایکٹ دو ہزار پندرہ کے تحت کالج کے ڈین کی تقرری کےلئے مشتہر پوسٹ کےلئے انہوں نے درخواست دی تھی تاہم سلیکشن بورڈ نے میرٹ لسٹ میں ڈاکٹر نو رالایمان کو ٹاپ پر رکھا جو کہ غیر قانونی ہے کیونکہ وہ پہلے ہی سرکاری ملازم ہے اور وہ خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں بطور پروفیسر آف میڈیسن تعینات ہیں لہذا ان کی تعیناتی کالعدم قرار دی جائے ۔