14-04-2017

پشاور ہائی کورٹ نے صوبائی احتساب کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر تقرری کے عمل کو روکتے ہوئے صوبائی حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے اور رٹ پر سماعت تین مئی تک ملتوی کردی ۔

جسٹس قیصر رشید اورجسٹس لعل جان خٹک پر مشتمل دو رکنی بنچ نے درخواست گزار محمد جمال آفریدی کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں ڈی جی صوبائی احتساب کمیشن ، سرچ اینڈ سکروٹنی کمیٹی ، چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ، قانون ساز کمیٹی صوبائی اسمبلی اور صوبائی محتسب وقار ایوب کو فریق بناتے ہوئے موقف اپنایا گیا کہ صوبائی احتساب کمیشن میں ڈی جی کے عہدے کی تقرری کےلئے صوبائی حکومت نے اشتہار جاری کیا جس پر دوسروں کے علاوہ صوبائی محتسب وقار ایوب نے بھی درخواست دی جبکہ صوبائی محتسب کے قانون دو ہزار دس کے تحت کوئی بھی صوبائی محتسب دو سال تک کسی بھی عہدے کا امیدوار نہیں ہوگا لیکن صوبائی محتسب نے حکومتی عہدیداروں کے ساتھ ملکر ایک سمری تیار کی جس کے تحت صوبائی محتسب کے قانون دو ہزار دس کے سیکشن پانچ سب سیکشن دو میں ترمیم تجویز کی گئی جس کے بعد وہ ڈی جی کے عہدے کےلئے اہل تصور ہوں گے حالانکہ اشتہار میں واضح درج تھا کہ ڈی جی صوبائی احتساب کمیشن کے عہدے کے لئے صرف وہ درخواستیں مطلوب ہیں جو کہ دس مارچ دوہزار سترہ تک مقرر معیار کے مطابق اہل ہوں گے تاہم اس کے باوجود صوبائی محتسب کا نام شارٹ لسٹ کیا گیا ۔لہذا فاضل عدالت سے استدعا ہے کہ صوبائی محتسب کو ڈی جی احتساب کمیشن کے عہدے کےلئے نااہل قرار دے کر صوبائی محتسب کے قانون دو ہزار دس میں جو ترمیم پیش کی گئی ہے اسے غیر آئینی قرار دیا جائے ۔