23-08-2017

پشاور ہائی کورٹ نے ڈائریکٹر جنرل پی ڈی اے  کے خلاف قانونی کاروائی سے متعلق صوبائی محتسب کی سفارشات پر عمل درآمد روک دیا اور اس حوالے سے صوبائی محتسب کو جواب جمع کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔

جسٹس سید افسر شاہ اور جسٹس محمد غضنفر پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ڈی جی پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی  محمد سلیم وٹو کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ پی ڈی اے نے آفس کے تیسری منزل کی تزئین وآرائش کا ٹھیکہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کو دینے کی منظوری دی جس کےلئے باقاٰعدہ میٹنگ بلائی گئی اور تمام امور کو زیر بحث لانے کے بعد یہ ٹھیکہ دیا گیا تاہم صوبائی محتسب نے اس ٹھیکہ کے حوالےسے قرار دیا ہے کہ یہ ٹھیکہ غیر قانونی طور پر دیا گیا ہے حالانکہ صوبائی محتسب کے پاس اس قسم کے احکامات کا اختیارہی نہیں ہے۔ جبکہ دوسری طرف صوبائی محتسب نے نو اگست کو صوبائی اور وفاقی حکومت کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں درخواست گزار کے خلاف ضروری محکمانہ کاروائی کی سفارش کی گئی ہے جو کہ غیر آئینی ہے اور یہ اقدامات درخواست گزار کے خلاف اس لئے کئے جا رہے ہیں لہ صوبائی محتسب نے اپنے بیٹے کےلئے پی ڈی اے سے اکاونٹ کھولنے کی درخواست کی جسے مسترد کر دیا گیا ہے جس پر وہ انتقامی کاروائی پر اتر آئے اور پی ڈی اے کے معاملات میں غیر قانونی مداخلت شروع کی ۔