02-06-2017

پشاور ہائی کورٹ نے کالعدم تنظیم کے ترجمان مسلم خان کی پھانسی کے خلاف جاری حکم امتناع میں توسیع کرتے ہوئے وزارت دفاع سے ایک بار پھر جواب طلب کر لیا ہے ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ملٹری کورٹ سے سزائے موت کی سزا پانے والے کالعدم تنظیم کے ترجمان مسلم خان کی اہلیہ کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزارہ کے شوہر کو حال ہی میں ملٹری کورٹ نےپھانسی کی سزا سنائی ہے تاہم اسے صفائی کا موقع فراہم نہیں کی کیا گیا ہے لہذا ملٹری کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قار دیا جائے ۔

عدالت نے وزارت دفاع کے نمائندے  سے قدمے کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے دائر رٹ پٹیشن پر سماعت چار جولائی تک ملتوی کردی جبکہ رٹ کو اس نوعیت کی دیگر رٹ پٹیشنز کے ساتھ یکجا کرنے کے احکامات جاری کردیئے ۔