08-09-2017

پشاور ہائی کورٹ نے کالعدم تنظیم سے تعلق کے الزام میں تینتیس سال قید کی سزا پانے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو صوبے سے دوسرے صوبے کے جیلوں کے حوالے نہ کرنے سے متعلق دائر رٹ درخواست پر صوبائی حکومت سے آئندہ سماعت پر وضاحت طلب کرلی

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس ارشد علی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے محمدخورشید ایڈوکیٹ کی جانب سے پشاور میں ناکہ بندیوں ، وی وی آئی پی کو سیکورٹی کی فراہمی کے خلاف اور ڈاکٹر شکیل آفریدی کو دوسرے صوبے کی جیلوں کے حوالے نہ کرنے سے متعلق دائر مختلف رٹ درخواستوں کی سماعت کی ۔دوران سماعت عدالت نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سے کمنٹس جمع کرنے سے متعلق استفسار کیا تو انہوں نے عدالت کو بتایا کہ آئندہ سماعت پر ان رٹ درخواستوں سے متعلق صوبائی حکومت کے موقف کو عدالت میں پیش کر دیا جائے گا جس پر عدالت نے مہلت دیتے ہوئے آئندہ سماعت پر ہر صورت میں کمنٹس عدالت میں جمع کرنء کی ہدایت کر دی اور رٹ درخواستوں پر سماعت ملتوی کردی ۔