25-10-2017

پشاور ہائی کورٹ نے کالعدم تنظیم کے ترجمان احسان اللہ احسان کی مجوزہ معافی کے خلاف اور اس کے خلاف سانحہ آرمی پبلک سکول کا مقدمہ چلانے کےلئے دائر رٹ پر وفاقی حکومت کے جواب کو ناکافی قرار دیتےہوئے آئندہ سماعت پر تفصیلی اور مفصل جواب طلب کر لیا ہے ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کی جس میں موقف اپنایا گیا کہ  آرمی پبلک سکول کے سانحہ کے تین سال بعد کالعدم تنظیم کے ترجمان احسان اللہ احسان نے خود کو سیکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا جس کے بعد نہ تو وفاقی حکومت اسے عدالت میں پیش کر رہی ہے اور نہ ہی اس کو سزا دی جا رہی ہے جس سے شہیداء آرمی پبلک سکول کےوالدین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کوبتایا کہ ملزم سے تحقیقات جاری ہے اور اس صورت میں تحقیقات مکمل نہ ہونے کی وجہ سے اس کو عدالت میں پیش نہیں کیا جا رہا ۔ عدالتی استفسار پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ سول پاور ایکٹ میں ملز م سے تفتیش کےلئے کوئی ٹائم فریم مقرر نہیں ہے جس پر فاضل عدالت نے وفاقی حکومت سے آئندہ سماعت پر مفصل جواب جمع کرنے کے احکامات جاری کردیئے ۔