31-05-2017

تینتیس سال پرانا کمپنیز آرڈیننس منسوخ کرکے نیا قانون کمپنیز ایکٹ دوہزارسترہ نافذ کردیا گیا ہے۔

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کےمطابق صدر مملکت ممنون حسین نے نئےکمپنیز ایکٹ 2017 پر دستخط کردیئے ہیں جس کےبعد 1984کا تینتیس سال پرانا کمپنیز آرڈیننس منسوخ ہوگیا ہے۔  نئےایکٹ سے بیرون ملک اثاثوں کی معلومات دینا قانون کےدائرے میں آگیا ہے۔ ایکٹ کے تحت پاکستان میں کسی کمپنی کےڈائریکٹر یا شیئرہولڈر کے بیرون ملک اثاثوں کی جانچ پڑتال کی جاسکےگی۔ ٹیکس اینڈ لاء حکام آف شور کمپنیز سے متعلق معلومات حاصل کرسکیں گے۔کمپنیز ایکٹ دوہزار سترہ پاکستان کاطویل ترین قانون ہے۔ جس میں 515شقیں اُور آٹھ شیڈول ہیں۔ اس ایکٹ کی تیاری میں 12سال کا عرصہ لگا۔کمپنیز بل18نومبر 2016کو قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا جہاں سے 6 فروری کو اور سینیٹ سے15مئی دوہزار سترہ  کو منظور ہوا۔