31-01-2017
سپریم کورٹ نے کم سن ملازمہ پر ہونے والے تشدد پر ازخود نوٹس کیس کو مزید ٹرائل کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ بھیج دیا ہے۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے ملازمہ پر تشدد میں ملوث ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج خرم علی خان سے اس بات کا جواب طلب کرلیا کہ انہوں نے اتنی کم عمر بچی کو اپنے گھر میں ملازمہ کیوں رکھا۔
ساتھ ہی عدالت نے مقامی عدالت کے اس جج سے بھی جواب طلب کیا، جنہوں نے کیس کے مرکزی ملزم اور جج خرم علی خان کی اہلیہ ماہین ظفر کی ضمانت لی جبکہ بچی کو بغیر کسی تفتیش کے اس کے والدین کے حوالے کردیا تھا۔جبکہ کم سن ملازمہ کو دوبارہ سوئیٹ ہوم بھجوادیا گیا۔