14-04-2017

پشاور ہائی کورٹ نے چترال ، گلگت بلتستان اور دیگر علاقوں میں بولی جانے والی زبان کہوار کو مردم شماری کے فارم میں شامل کرنے کےلئے دائر رٹ درخواست پر ادارہ شماریات سے بیس اپریل تک علاقائی زبان کو فارم میں شامل کرنے کے طریقہ کار طلب کر لیا ہے ۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی ۔ دوران سماعت ادارہ شماریات کا نمائندہ اور ڈپٹی اٹارنی جنرل پیش ہوئے اور عدالت سے مہلت طلب کی اور عدالتی استفسار پر عدالت کو بتایا کہ چترال میں پچیس اپریل سے مردم شماری شروع ہوگی جس پر عدالت نے اس بات کی وضاحت طلب کی کہ مردم شماری کے فارم میں زبان شامل کرنے کےلئے کیا طریقہ کار ہے اور سماعت بیس اپریل تک ملتوی کر دی ۔