23-05-2017

گردوں کی غیرقانونی فروخت سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہےکہ گردے دینے والے ڈونر نہیں بلکہ استحصال کا شکار ہیں، اعضاء کی غیرقانونی پیوندکاری معاشرے کا بہت بڑا ناسور ہے۔

سپریم کورٹ میں گردوں کی غیرقانونی فروخت سے متعلق ازخودنوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔اسلام آباد پولیس نے 53 صفحات پر مشتمل رپورٹ عدالت میں جمع کرادی جس میں کہا گیا ہے کہ کشمیر، گلگت بلتستان میں بھی گردوں کی غیرقانونی خریدوفروخت ہو رہی ہے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پنجاب کے کئی ایسے گاؤں ہیں جہاں لوگوں کا ایک گردہ ہے، گردہ دینے اور لینے والوں کو جعلی رشتہ دار ظاہر کیا جاتا ہے۔عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان، چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اورکشمیر کے ایڈوکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ایس ایس پی اسلام آباد کی رپورٹ پر تفصیلی جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی جبکہ گرفتار ملزمان کے خلاف جلد ازجلد چالان عدالتوں میں پیش کرنے کا حکم بھی دے دیا۔اور

کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی گئی۔