12-04-2017

سپریم کورٹ نے گردے نکالنے سے متعلق از خود نوٹس کیس میں تحقیقاتی رپورٹ ایک ماہ میں پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے گردے نکالنے سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ محمدعمران نامی شخص  کاگردہ نکالنے کا واقعہ اسلام آباد میں پیش آیا، اس کا ذمہ دار کون ہیں؟۔ ا س پر ایس ایس پی اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ اس ضمن میں  تحقیقات  جاری ہیں تاہم معلوم نہیں ہوسکا کہ گردہ کس اسپتال میں نکالا گیا؟ ایف آئی آرمیں نامزد 3میں سے 2ملزمان کو گرفتارکیا،ملزمان ریمانڈ پرتھے کہ مدعی نے راضی نامہ کرلیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جس اسپتال میں گردہ نکالاگیا وہ خلامیں نہیں اسی زمین پرہوگا، ایسے اسپتالوں کی نشاندہی کرنی ہے جہاں یہ مکروہ دھندا ہوتا ہے۔عدالت نے ایک ماہ میں تحقیقاتی رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 6ہفتوں کیلئے ملتوی کردی۔