22-08-2017

 پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا کے کارخانہ داروں اور سی این جی مالکان سے گیس انفراسٹرکچر ڈّویلپمنٹ سیس کی مد میں بقایا جات کی وصولی روکتے ہوئے اوگرا ، ایس این جی پی ایل اور وفاقی حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے ۔

جسٹس محمد ابراہیم اور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ درخواستوں کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ پشاور ہائی کورٹ نے ابتدائی طور پر جی آئی ڈی سی کو غیر قانونی قرار دیا اور یہ فیصلہ سپریم کورٹ نے بھی بحال رکھا جس کے بعد وفاقی حکومت نے ایک مرتبہ پھر قانونی تحفظ کے ساتھ جی آئی ڈی سی کو لاگو کیا جسے ہائی کورٹ نے بھی قانونی قرار دیا کیونکہ اس حوالے سے مطلوبہ قانون سازی کی گئی ۔ عدالت میں موقف اپنایا گیا کہ قانون کے مطابق جی آئی ڈی سی کی وصولی کےلئے قانون سازی کے بعد رولز کی تیاری ناگزیر ہے کیونکہ ان قوانین کے تحت یہ وصولی کی جانی ہے لیکن اس حوالے سے ابھی تک ضروری رولز نہیں بنائے گئے اور اس کے باوجود ایس این جی پی ایل نے کروڑوں کے بقایا جات کی وصولی کےلئے نوٹس جاری کئے ہیں جن کا کوئی قانونی جواز نہیں بنتا لہذا جب تک وفاقی حکومت رولز نہیں بناتی تب تک یہ ریکوری نہ کی جائے ۔