10-03-2017

پاکستان میں رہنے والے ہندوؤں کی شادی کو نظام کے تحت لانے کے لیے قومی اسمبلی میں ترمیم شدہ ’ہندو میرج بل 2016‘ بھی منظور کرلیا گیا ہے۔

ہندو میرج بل ملک میں رہنے والی ہندو برادری میں ہونے والی شادیوں کو نظام کے تحت لانے کے لیے اپنی نوعیت کا پہلا قانون ہے۔ بل قومی اسمبلی میں وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر کامران مائیکل نے پیش کیا، جسے منظوری کے بعد قانون بننے کے لیے صدر مملکت ممنون حسین کو  دستخط کےلئے بھیج دیا جائے گا۔

بل کے تحت ہندو برادری میں کم عمری کی شادیوں پر پابندی لگا کر شادی کی کم سے کم عمر 18 برس کردی گئی ہے۔بل کے تحت ہندو برادری کی روایتی رسم و رواج کو تحفظ دیا گیا ہے، جبکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہندوؤں میں ہونے والی شادیوں کی رجسٹریشن کا طریقہ کار وضع کیا گیا۔بل کے ذریعے ہندو جوڑے کے درمیان شادی برقرار رکھتے ہوئے قانونی علیحدگی کا تصور بھی دیا گیا ہے۔