12-05-2017

پشاور ہائی کورٹ کی لارجر بنچ نے یونیورسٹی ٹاون پشاور میں کمرشل سرگرمیوں کے حوالے سے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کی ترمیم کو درست قرار دیتے ہوئے دائر رٹ درخواستیں خارج کر دی ہیں ۔

پشاور ہائی کور ٹ کے جسٹس وقار احمد سیٹھ ، جسٹس روح الاآمین خان اورجسٹس لعل جان خٹک پر مشتمل تین رکنی لارجر بنچ نے دائر رٹ درخواستوں کی سماعت کی ۔

درخواست گزار کی جانب سے موقف اپنایا گیا کہ پشاور ہائی پہلے ہی ان مراکز کو غیر قانونی قرار دے کر سیل کرنے کے احکامات جاری کر چکی ہے تاہم اب صوبائی حکومت نے اس نئے قانون کو منظور کرکے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو غیر موثر کرنے کی کوشش کی ہے جو کہ درست اقدام نہیں لہذا یونیورسٹی ٹاون کو رہائشی علاقہ قرار دیتے ہوئے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کی ترمیم کو کالعدم قرار دیا جائے ۔

دوران سماعت ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے موقف اپنایا کہ صوبائی اسمبلی کو قوانین میں ترامیم کا اختیار حاصل ہے اور وہ کسی بھی قانون میں ترمیم کے ساتھ ساتھ اس حوالے سے نیا قانون بھی بنانے کی مجاز ہے جبکہ سپریم کورٹ  کے متعدد ایسے فیصلے موجود ہیںن جس میں واضح کیا گیا ہے کہ صوبائی یا قومی اسمبلی قوانیہن بنانے اور ان میں ترمیم کا اختیار رکھی ہے جبکہ ہائی کورٹ کے پاس ان قوانین کو ختم کرنے کا اختیار نہیں ہے ۔

کمرشل اداروں کے وکلاء نے دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ ہائی کورٹ صرف اسی صورت میں کسی قانون کو ختم کر سکتی ہے جب وہ یہ سمجھے کہ یہ قانون آئین سے متصادم ہے جبکہ یونیورسٹی ٹاون کے حوالے سے قانون میں جو ترمیم کی گئی ہے وہ باقاعدہ طور پر اسمبلی سے منظور ہوئی ہے اور اسے کسی بھی صورت کالعدم نہیں قرار دیا جا سکتا کیونکہ یہ ترمیم غیر آئینی نہیں ہے ۔

فاضل عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر اپنے مختصر فیصلے میں قرار دیا کہ یونیورسٹی ٹاون میں کمرشل سرگرمیوں کے حوالے سے گورنمنٹ ایکٹ کی ترمیم قانونی ہے جس کی بناء پر دائر رٹ پٹیشن کو خارج کر دیا گیا ۔