21-02-2017

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی نے کہا ہے کہ عوام کی عدلیہ سے بہت سے توقعات وابسطہ ہیں اس لئے ججز کو ان پر پورا اترنا ہوگا ان کا کہنا تھا کہ  مصالحتی کونسلوں کے ذریعے مقدمات نمٹانے سے عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم ہوگا جس کی باقاعدہ قانون سازی پہلے سے کی گئی ہے ۔

 ملاکنڈ اور دیر ڈسٹرکٹ کورٹس کے دورے کے موقع پر چیف جسٹس پشاورہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ دور حاضر میں عدالتی نظام کو مزید سہل بنانے کےلئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید موثر بنایا جائے گا ۔

 دیر بالا میں ججز سے ملاقات کے دوران   چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی کو بتایا گیا کہ سول جج شرینگل جمشید کنڈی نے وہاں پر اے ڈی آر کے ذریعے درجنوں مقدمات نمٹائے کیوں کہ یہ علاقہ پہاڑوں کے درمیان واقع ہے اور فریقین معمولی نوعیت کے مقدمات کے سلسلے میں سالوں سے ان عدالتوں کے چکر لگا تے تھے ۔ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے ان کوششوں کو سراہا اور ججز پر زور دیا کہ وہ لوگوں کو انصاف  کی فراہمی کےلئے وسائل کا استعمال کریں ۔

 ڈسٹرکٹ جوڈیشری ملاکنڈ سے اپنے خطاب میں چیف جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ عوام کی عدلیہ سے بہت سے توقعات وابسطہ ہیں اس لئے ججز کو ان پر پورا اترنا ہوگا ۔اس موقع پر انہیں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ انٹرنیٹ او ر کمپیوٹر کے اس دور میں مقدمات سے متعلق بہت سے امور جلد سے جلد نمٹایا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملاکنڈ  افتخار الہی نے مختلف مقدمات میں گواہان کے بیانات بیرونی ملک اور اندرونی ملک سے ریکارڈ کرکے مقدمات کے فیصلے کئے جو کہ اہم پیش رفت ہے ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی  نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے یقین دلایا کہ بہت جلد اس حوالے سے مزید اقدامات اٹھائے جائیں گے ۔