28-03-2018

پشاورہائی کورٹ نے شمالی وزیر ستان ایجنسی میں 30ڈسپنسریوں کیلئے ایک ماہ کے اندرعملہ فراہم کرنے کے احکامات جاری کردئیے ہیں۔

عدالت عالیہ کے جسٹس روح الامین اور جسٹس سید افسرشاہ پرمشتمل دورکنی بنچ نے یہ احکامات درخواست گزار ملک قاسم خان کی توہین عدالت کی درخواست پرجاری کئے اس موقع پرعدالت کو بتایاگیاکہ درخواست گذارکاتعلق شمالی وزیرستان ایجنسی کے ملکان سے ہے جہاںکچھ عرصہ قبل تیس ڈسپنسریاں قائم ہوچکی ہیں تاہم ان ڈسپنسریوں کے لئے تاحال سٹاف مہیا نہیں کیاگیاجس کے باعث اہل علاقہ کو شدید مشکلات کاسامناکرناپڑرہا ہے۔عدالت کو بتایاگیا کہ عدالت عالیہ نے قبل ازیں رٹ پٹیشن منظورکرکے حکومت کو عملے کی فراہمی کے احکامات جاری کئے تھے اس کے باوجود عدالتی حکم پرعملدرآمد نہیں کیاجارہا ہے اس موقع پرڈپٹی اٹارنی جنرل اصغرکنڈی ایڈیشنل چیف سیکرٹری فاٹاسکندرقیوم اورڈپٹی سیکرٹری سیفران عدالت میں پیش ہوئے اوربتایا کہ اس حوالے سے عملے کی بھرتی کے لئے سمری تیارکرکے سیفران کو بھجواچکے ہیں جس کی منظوری کے بعد عملہ بھرتی کرلیاجائیگا۔ جس پرعدالت نے توہین عدالت کی درخواست پرفاٹاحکام کو تیس یوم کے اندرعملے کی تعیناتی یقینی بنانے کے احکامات جاری کردئیے