19-06-2018

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ اعلی عدلیہ کے ججز کی تنخواہوں میں کمی کے حوالے سے اپنے ساتھی ججز سے بات کروں گا،  چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں جاری کاروائی جولائی تک نمٹا دی جائے گی۔

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار اور جسٹس اعجازلاحسن پر مشتمل دو رکنی بنچ نے عید کی چھٹیوں کے باوجود داد رسی کے لئے آنے والے درجنوں سائلین کی درخواستوں پر سماعت کی،دوران سماعت درخواست گزار بیرسٹر جاوید اقبال جعفری نے استدعا کی کہ سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہیں اور مراعات بہت زیادہ ہیں ان میں کمی جائے،انہوں نے بتایا کہ محتاط اندازے کے مطابق سپریم کورٹ کے ایک جج کی تنخواہ اور مراعات ماہانہ ایک کروڑ کے لگ بھگ ہیں، انہوں نے استدعا کی کہ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فرخ عرفان خان کے خلاف سپریم جوڈیشنل کونسل کی کارروائی کھلی عدالت میں کی جائے،جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دئیے کہ کھلی عدالت میں سماعت سے متعلق فیصلہ آچکا ہے۔

 چیف جسٹس نے درخواست گزار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میرے حساب کے مطابق سپریم کورٹ کے ایک جج کی تنخواہ اور مراعات یومیہ پچاس ہزار روپے ہیں،اسی لیے تو میں ججز کو کہتا ہوں کہ اپنی ذمہ داری پوری کریں،چیف جسٹس نے کہا کہ تنخواہوں میں کمی کے لیے اپنے ججز سے بات کروں گا۔