19-06-2018

چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا کا کہنا ہے کہ  جب بھی کسی شریف آدمی کو گھسیٹنا ہو توہین عدالت کی درخواست دائر کر دیں یہ بلیک میل کا ذریعہ بن گیا ہے۔

الیکشن کمیشن میں  این اے 166  سے سابق رکن قومی اسمبلی رانا زاہد حسین کے خلاف توہین عدالت اور جعلی ڈگری کیس کی سماعت ہوئی۔ کیس کی سماعت چیف الیکشن کمیشنر سردار محمد رضا کی سربراہی میں چار رکنی بنچ نے کی۔

رانا زاہد حسین کے خلاف درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف پیش کیا کہ رانا زاہد حسین جعلی ڈگری پر 3 الیکشن لڑ چکے ہیں، بلوچستان یونیورسٹی بھی ان کی ڈگری کو جعلی قرار دے چکی ہے۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ نے الیکشن کمیشن کے خلاف ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دے دی۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ یہاں کیا کام ہو رہا ہے؟ آپ نے دباؤ ڈالنے کے لیے توہین عدالت اور آئی سی اے بھی دائر کر دی۔ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ تسلیم کرتا ہوں کہ الیکشن کمیشن کے خلاف ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کرنا غلط تھا۔ الیکشن کمیشن نے زاہد حسین کے وکیل کو آئندہ سماعت پر ہائیکورٹ کا آرڈر لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 21 جون تک ملتوی کردی۔