17-11-2017

خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی پشاور کے زیر اہتمام اے ڈی آر یعنی متبادل تنازعاتی حل کے موضٔع پر دو روزہ قومی کانفرنس  اختتام پذیر ہو گیا ہے۔

دو روزہ کانفرنس خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی پشاور اور اقوام متحدہ کے ادارے برائے ترقیاتی پروگرام یو این ڈی پی کے ایس آر ایل پی پروگرام اور یورپی یونین کے تعاون سے منعقد کیا گیا جس میں نظام انصاف سے منسلک تمام سٹیک ہولڈرز کے نمائندے شریک ہوئے۔

اختتامی تقریب سے اپنے خطاب میں ڈائریکٹر جنرل خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی پشاور محمدمسعود خان نے  کہا کہ  تنازعات کے حل کےلئے اے ڈی آر ایسے طریقے اور استعداد کار مہیا کرتی ہے جس کا مقصد عدالتوں کے باہر قانونی تنازعات کا حل آسان اور شفاف بنانا ممکن ہے ، یہ طریقے عام طور پر غیر جابندار تشخیص ، اتفاق ، مذاکرات اور ثالثی پر مشتمل ہیں۔

واضح رہے کہ اے ڈی آر پر منعقدہ دو روزہ کانفرنس کا مقصد قومی اور صوبائی و مقامی سطح پر موجودہ رسمی اور غیر رسمی اے ڈی آر میکنزم کی افادیت پر تبادلہ خیال کرنے کے ساتھ ساتھ صوبہ خیبر پختونخوا کےلئے ایک مناسب اور موثر اے ڈی آر میکنزم اور حکمت عملی تیار کرنا

تھا۔  اسی طرح کانفرنس کے مقاصد میں مختلف قوانین اور خاص طور پر ضابطہ دیوانی اور ضابطہ فوجداری کےلئے اے ڈی آر رولز اور ایس او پیز تیار کرنے کےلئے سفارشات مرتب کرنا بھی تھا۔

کانفرنس کے اختتام پر خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی پشاور کی جانب سے شرکاء کانفرنس میں سرٹیفیکٹس بھی تقسیم کیں گئے ۔