02-02-2017

پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا میں بچوں سے جبری مشقت  کے خلاف دائر رٹ درخواست پر صوبائی حکومت اور چائلڈ پروٹیکشن کمیشن سے جواب طلب کر لیا ہے ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کور ٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس اکرام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ ایک اندازے کے مطابق اس وقت پچیس ملین بچوں سے جبری مشقت لی جا رہی ہے اور یہ بچے جبری مشقت اور تشدد میں زندگی گزار رہے ہیں جبکہ چائلڈ لیبر  کے حوالے سے آخری سروے انیس سو چیانوے میں ہوا جس کے مطابق تین اعشاریہ تین ملین بچے بیگار کاٹ رہے تھے جبکہ اقوام متحدہ کی جانب سے دو ہزار بارہ میں ہونے والے سروے کے مطابق ایسے بچوں کی تعداد بارہ اعشاریہ پانچ ملین ہے اور یہ تعداد اب پچیس ملین تک پہنچ چکی ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ صوبے میں بچوں سے جبری مشقت لینےکے خلاف چائلڈ پروٹیشن ایکٹ دو ہزار دس خیبر پختونخوا کا قانون نافذ ہو چکا ہے جس میں بچوں سے جبری مشقت  لینے پر تین سال قید اور جرمانہ کی سزا مقرر ہے تاہم قانون ہونے کے باوجود اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے جس کے لئے چائلڈ پروٹیکشن کمیشن کا ادارہ بھی قائم کیا گیا ہے تاہم ادارے کی کارکردگی بھی نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ کارخانوں ، دکانوں اور گھروں میں کام کرنے والے بچوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے ۔