04-04-2018

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ درست اثاثے ظاہر نہ کرنے پر فوجی اہلکاروں کا کورٹ مارشل نہیں ہو سکتا۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم بنچ نے  کرنل منیر کے خلاف دائر حکومتی اپیل کی سماعت  کی ۔

عدالت نے قرار دیا کہ درست اثاثے ظاہر نہ کرنے پر کورٹ مارشل نہیں ہو سکتا جبکہ ایف بی آر کا معاملہ کورٹ مارشل کی حدود میں نہیں آتا ۔ اسی طرح   کسی دوسرے ادارے کو دیا گیا بیان مس کنڈکٹ میں نہیں آتا۔

واضح رہے کہ کرنل منیر کو  1999   میں ایف بی آر کو  درست اثاثے اور ذرائع آمدن نہ بتانے پر کورٹ مارشل کرتے ہوئے انہیں برطرف کردیا گیا تھا جبکہ  ہائی کورٹ نے کرنل ریٹائرڈ منیر کی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں بحال کردیا تھااور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف  وزارت دفاع نے سپریم کورٹ میں  اپیل دائر کی جسے سپریم کورٹ نے مسترد کرتے ہوئے ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔